PUNJAB PUBLIC SERVICE COMMISSION
COMBINED COMPETITIVE EXAMINATION
FOR RECRUITMENT TO THE POSTS OF
PROVINCIAL MANAGEMENT SERVICE, ETC.-2022
CASE NO. 2C2023
SUBJECT: URDU (Essay, Precis, Comprehension & Translation)
TIME ALLOWED: THREE HOURS
MAXIMUM MARKS: 100
NOTE:
i. All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
ii. Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q. Paper.
iii. No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
iv. Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.
سوال نمبر 1: درج ذیل میں سے کسی ایک موضوع پر مضمون لکھیے۔ (کم از کم الفاظ: ایک ہزار) (30 نمبر)
الف۔ صدارتی اور پارلیمانی نظام
ب۔ قانون کی بالا دستی، کیوں؟ کیسے؟
ج۔ بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
د۔ مہنگائی پر قابو پانے میں عوام اور حکومت کی ذمہ داریاں
سوال نمبر 2: درج ذیل اقتباس کی تلخیص کیجیے جو اصل عبارت کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، اس کا ایک موزوں عنوان بھی تجویز کیجیے۔ (15 نمبر)
جس طرح اردو پاکستان کے وجود کا جواز بھی ہے، بقا بھی، ارفعِ سفر بھی ہے، منزلِ مقصود بھی، نقطۂ اتصال بھی ہے، نقطۂ کمال بھی۔ اسی طرح رسمِ الخط کو کسی زبان کا محض لباس سمجھنا درست نہیں بلکہ یہ اس کے لیے جلد کی حیثیت رکھتا ہے۔ رسمِ الخط قوموں کے لسانی مزاج کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس سے ایک قوم کے مخصوص تہذیبی نقوش کا پتہ چلتا ہے۔ یہ قوموں کو مضبوط تہذیبی اساس فراہم کرنے کا سبب ہیں۔ تہذیب و ثقافت کی تشکیل و تزئین اور فروغ وارتقا میں زبان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ہر رسمِ الخط زبانوں کی صوتی اکائی کا عکاس ہوتا ہے۔ ہمارا موجودہ رسمِ الخط عربی، فارسی اور اردو کی آوازوں کا آلۂ اظہار اور دنیائے اسلام کا ترجمان ہے۔ ہمارے ہاں رومن رسمِ الخط اختیار کرنے کی وجہ کم کوشی اور لسانی مرعوبیت ہے۔ لسانی مرعوبیت، تہذیبی غلامی کی اولاد ہوتی ہے۔ کسی نئے رسمِ الخط کے رواج پا جانے سے ہماری آئندہ نسلیں قرآنِ فہمی، کلاسیکی ادب، زریں ملفوظات اور نادر اقوال سے دور ہوتے ہوتے اپنی شناخت گم کر بیٹھیں گی، جو کسی عظیم سانحے سے کم نہیں۔
سوال نمبر 3: درج ذیل جملوں کو درست کیجیے کہ جملے کی بنیادی ساخت متاثر نہ ہو۔ (10 نمبر)
(الف) امجد کے ماسوائے سب موجود ہیں
(ب) آپ یہ بات واضح کر دیجیے۔
(ج) اس چشمے کا پانی کھارا ہے۔
(د) نائلہ اس کی بات سن کر بکی بکی رہ گئی۔
(ہ) محنت کرو مبادا فیل نہ ہو جاؤ۔
(و) چند لمحوں کے اندر گاڑی پہنچ جائے گی۔
(ز) اپنے کام کے ساتھ کام رکھو۔
(ح) ممکن ہو سکا تو کل آؤں گا۔
(ط) اس کی تقرری عارضی بنیادوں پر ہوئی ہے۔
(ی) عجز و انکساری نہایت عمدہ عادت ہے۔
سوال نمبر 4: درج ذیل میں سے پانچ محاورات کو جملوں میں اس طرح استعمال کیجیے کہ ان کا مفہوم بخوبی سمجھ آ جائے۔ (15 نمبر)
(الف) دکان بڑھانا
(ب) عنقا ہونا
(ج) سورج کو چراغ دکھانا
(د) رسی کا سانپ بنانا
(ہ) دانت کاٹی روٹی کھانا
(و) چیونٹی کے پر نکلنا
(ز) قافیہ تنگ کرنا
(ح) آتش زیر پا ہونا۔
سوال نمبر 5: درج ذیل اشعار میں سے صرف تین اشعار کی تشریح کیجیے، تشریح سے پہلے شاعر کا نام بھی لکھیے۔ (15 نمبر)
(الف) انہیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ یہاں جو حادثے کل ہو گئے ہیں
(ب) لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہِ شیشہ گری کا
(ج) ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
(د) ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
(ہ) خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
سوال نمبر 6: کاٹ چھانٹ سے گریز کرتے ہوئے درج ذیل عبارت کا رواں اردو ترجمہ کیجیے۔ (15 نمبر)
Come, Dear Friend! Thou hast known me only as an abstract thinker and dreamer of high ideals. See me in my home playing with the children and giving them rides turn as if I were a wooden horse. Ah! See me in the family circle lying at the feet of my grey-haired mother the touch of whose rejuvenating hand bids the tide of time flow backward, and gives me once more the school-boy feeling in spite of all the Kants and Hegels in my head. Here thou wilt know me as a human being.
****************
Urdu Essay Precis Punjab PMS Paper 2022
7 Views