Urdu Literature CSS Paper 2026

FEDERAL PUBLIC SERVICE COMMISSION

COMPETITIVE EXAMINATION-2026 FOR RECRUITMENT TO

POSTS IN BS-17 UNDER THE FEDERAL GOVERNMENT

URDU LITERATURE

TIME ALLOWED: THREE HOURS

PART-I (MCQs) MAXIMUM MARKS: 20

PART-II MAXIMUM MARKS: 80

PART-I (MCQs): MAXIMUM 30 MINUTES

NOTE: (i) First attempt PART-I (MCQs) on separate OMR Answer Sheet which shall be taken back after 30 minutes.

(ii) Overwriting/cutting of the options/answers will not be given credit.

(iii) There is no negative marking. All MCQs must be attempted.

PART-I (MCQs)(COMPULSORY)

Q1. (i) Select the best option/answer and fill in the appropriate Box on the OMR Answer Sheet. (20×1=20)

(ii) Answers given anywhere else, other than OMR Answer Sheet, will not be considered.

 

   1 “أودھ پنچ” کیا ہے؟

   (A) ایک مزاحیہ رسالہ (B) ایک اخبار (C) ایک ناول (D) ان میں سے کوئی نہیں

   2 “پہاڑ” ہے:

   (A) کنایہ (B) مجاز مرسل (C) استعارہ (D) ان میں سے کوئی نہیں

   3 “لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

   اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے”

   مندرجہ بالا شعر __________ کی مثال ہے۔

   (A) تجنيس (B) مبالغہ (C) تضاد (D) ان میں سے کوئی نہیں

   4 شعر میں الفاظ کا استعمال جس طرح لائے جائیں اسے _________ کہتے ہیں۔

   (A) ردیف (B) عروض (C) اسلوب (D) ان میں سے کوئی نہیں

   5 غالب: “گئے دن کہ تنہا تھا میں، اے ہجر، اب ہے مرنے سے اٹھا ہے پر مائدہ غزل”

   اس شعر میں “مرنے سے اٹھا ہے” _________ کا مخفف ہے۔

   (A) بائیں دل (B) دل ہی کا (C) دل ہی تو ہے (D) ان میں سے کوئی نہیں

   6 طنز و مزاح کا کام نہ تو تخریب ہے _________ اور خود توجہی ہے جو خود ہی ہمیں

   مبتلائے تبسم کرتی ہے، _________ کی علامت ہے۔

   (A) قابل قبول (B) کمالِ اعتدال (C) اعلیٰ استعداد (D) ان میں سے کوئی نہیں

   7 مابعدِ جدیدیت کے معنی ہیں:

   (A) سواری کے پیچھے پیچھے چلنا (B) پیچھے پیچھے آنے والا (C) آگے آگے چلنا (D) ان میں سے کوئی نہیں

  1. آزادی کے بعد اردو ادب میں کسی موضوع پر زیادہ تر لکھا گیا؟

   (A) سیاسی مسائل (B) سماجی و اخلاقی زوال (C) فلسفیانہ مسائل (D) ان میں سے کوئی نہیں

   9 نواب واجد علی شاہ کے عہد میں لکھنؤ کی تہذیب میں کون سی خرابی پیدا نہیں ہوئی؟

   (A) عیش و عشرت (B) لا پرواہی (C) نفاق (D) ان میں سے کوئی نہیں

   10 “زلفیں وہ گھٹا ئیں” وہ صنف کیا ہے؟

   (A) سیاسی تحریریں (B) مکتوب نگاری (C) تقسیم ہند اور اس کے مسائل (D) ان میں سے کوئی نہیں

   11 سجاد حیدر یلدرم کی کہانی کون سی ہے؟

   (A) انشائیہ (B) افسانہ (C) سورج (D) ان میں سے کوئی نہیں

   12 معاصر اردو ادب میں سب سے اہم موضوع کیا ہے؟

   (A) تاریخ (B) معاشرتی مسائل (C) سیاسی حقائق (D) ان میں سے کوئی نہیں

   13 میر تقی میر کی شاعری میں “درد” اور “تنہائی” کا تذکرہ کیوں ہے؟

   (A) ان کی شاعری کا مرکزی موضوع (B) جنسی موضوع (C) ذہنی اور دماغی (D) ان میں سے کوئی نہیں

   14 شاعرِ انقلاب کا لقب کس شاعر کو دیا گیا ہے؟

   (A) غالب (B) نذیر اکبر آبادی (C) جوش ملیح آبادی (D) ان میں سے کوئی نہیں

   15 اندھیرے میں بند” کس تصنیف ہے؟

   (A) فکشن (B) سوانح عمری (C) خاکہ (D) ان میں سے کوئی نہیں

   16 “تھامے کا چراغ” کے نام سے کس کا ناول شائع ہوا؟

   (A) شوکت تھانوی (B) سعادت حسن منٹو (C) سعادت علی (D) ان میں سے کوئی نہیں

   17 “بادشاہِ بیدار” کے پہلے ادبی اور تنقیدی کالم “طنز و مزاح” کے نام سے اخبار کا افتتاح کس نے کیا؟

   (A) ڈاکٹر جمیل جالبی (B) سجاد ظہیر (C) پیر عطا محی الدین (D) ان میں سے کوئی نہیں

   18 کلیات ولی دکنی کی بنیادی فکری، لسانی اور شاعرانہ اہمیت کیا ہے؟

   (A) دیوانی کلام (B) اظہاریہ (C) غزلیں (D) ان میں سے کوئی نہیں

   19 ن م راشد کی نظم “حسن کوزہ گر” کتنے حصوں پر مشتمل ہے؟

   (A) تین (B) سات (C) پانچ (D) ان میں سے کوئی نہیں

   20 “سات آسمان” سے کیا مراد ہے؟

   (A) سرکاری کے کام کی رفتار (B) فضول گفتگو (C) کثرت سے بار بار سلام کرنا (D) ان میں سے کوئی نہیں

PART-II

NOTE:

(i) Part-II is to be attempted on the separate Answer Book.

(ii) Attempt ALL questions.

(iii) All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.

(iv) Write Q No. in the Answer Book in accordance with Q No. in the QPaper.

(v) No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.

(vi) Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.

(15)

سوال نمبر 2: (الف) درج ذیل میں سے کسی ایک جز کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔

جز اول (1)

تمھیں تسلیم اب اپنے مرتبے کا ہو گیا عالم

جواہر زادگاں کہتے ہیں مر دوں کی تمیزیں

عقیدت حال پر رونے بھی ہے اب سو قف

بات کربن کی کوئی ہو گئی تو شب موقف

اے فریدہ محفل، دیکھنے کے سب سو قف

مہر الطاف، عنایات و کرم سب سو قف

(2)

وہ جو نظم تمہاری میں نے سنی فرما دیں گے کیا

نہ تم سے مرتے تلک بائن شدہ جاویں گے کیا

جز دوم

شام کی آنکھ میں اشلوک کی تندہی کیوں ہے

ایک ریزو کے نتھنے کی سڑاند عام آک

جس کی بو نیر، دھند لکوں میں رینگ جاتی ہے

سمٹ چڑھتی ہو نگاہ کی اک پرانی پلے

اب ابتری ہے تو زیتون کی ہری سوتھی

کسی مقتل ہوئی ہوئی نگہ تک جاتی ہے

آسمانوں دشت کی مہم کار میں نہ گھٹنا ہو اور بہت

کیونکہ پیٹ میں اک ریت ہے، اچھلتی آتی ہیں

کوئی چرانی غم و دوراں پر چھنک جاتی ہے

جست بھرتی ہے کبھی اور کبھی چلتے چلتے

بانجھ اندھے ہوئے زمانوں کی

پر جلی شاخ ہی پر کوٹ پر ٹھٹک جاتی ہے

سانپوں کا کٹورا مچھری پاگ کا مروڑا گوشت

پھر بھی بدبو لِ لِ غلاظتوں کی بد بوئی ہے کہ جو

بار بار اپنے اجداد سے چمک جاتی ہے

شام کی آنکھ میں اشلوک کی تندہی کیوں ہے

کھیتی ہے، مہر کسی کی نہ شاہوں کی اسنک

جس کی رد میں وقت کی بیاض چٹک جاتی ہے

(10)

(ب) مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب دیجیے۔

اقبال کی شاعری میں خودی اور قومیت کے تصورات کے عصری مفہوم کی بحث کریں۔

یا

میرا جی کی شاعری میں فطرت کو کس طرح علامتی سطح پر انسانی جذبات اور تجربات کی عکاسی کے طور پر پیش کیا گیا ہے؟

 

(15)

سوال نمبر 3: (الف) پاکستانی ادب کی شناخت اور روایت میں جدیدیت اور روایتی موضوعات کے درمیان تقابل کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟

یا

منٹو کے افسانوں میں موجود انسانیت کے المیے اور اخلاقی انتشار کو معاصر معاشرتی حالات میں کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے؟ کیا وہ آج کے معاشرتی تناظر میں ان کے افسانوں کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے؟

(10)

(ب) درج ذیل اقتباسات میں سے کسی ایک کی تشریح کیجیے۔ مصنف اور کتاب / مضمون کا نام بھی دیکھیے۔

(1) تب باپ نے درانتی اپنے کندھے پر رکھ لی۔ گانٹھ کو اپنے بازو میں سمیٹ لیا اور رونے لگا۔ گھر دو بیگھہ سے برات لانے کی بات پکی کر کے گاؤں واپس آگیا۔ برات سے تین روز پہلے کل بانو کو مایوں بٹھا دیا گیا اور اسے اتنی مہندی لگائی گئی کہ اس کی ہتھیلیاں سرخ، پور گرہی سرخ اور پیر سیاہ ہو گئیں اور تین دن تک آس پاس کی گلیاں گل بانو کے گھر سے امڈتی ہوئی مہندی کی خوشبو سے مہکتی رہیں۔ پھر رات کو تاروں کی چھاؤں میں برات کو پہنچنا تھا اور دن کو لڑکیاں گل بانو کی ہتھیلیوں کو مہندی سے تھوپ رہیں تھیں کہ وہ ایک گاؤں سے ایک نالی آیا اور اس نے کل بانو کے باپ کو بتایا کہ کل زمیندار ہرن کے شکار پر گیا تھا اور بیگھہ اس کے ساتھ تھا۔ جنگل میں زمیندار کے پرانے دشمن زمیندار کی تاک میں تھے انہوں نے اس پر حملہ کر دیا اور بیگھہ اپنے مالک کو بچانے کی کوشش میں مارا گیا۔ آج جب میں وہاں سے چلا تو بیگھہ کی ماں اپنے بیٹے کی لاش کے سر پر سہر ا باندھے اپنے بال نوچ نوچ کر ہوا میں اڑا رہی تھی۔

(2) “یہ میری عجیب دیوانی بیٹی ہے۔” عورت نے اپنے برقعے کے پٹ کھولتے ہوئے کہا، “یہ میری سب سے چھوٹی بیٹی ہے۔ آپ نے اس کا چہرہ تو ابھی نہیں دیکھا مگر اس کا قد تو پسند ہے نا آپ کو؟” الیاس بولا، “جی ہاں۔۔۔ سبحان اللہ!” میں نے ایک جھٹکے کے ساتھ پلٹ کر الیاس کو دیکھا۔ اتنے پیارے اور مقدس الفاظ اس نے کتنے اوباش لہجے میں ادا کیے تھے۔ الیاس میری اس حرکت سے بہت محظوظ ہوا۔ وہ ہنسنے لگا اور بولا، “یہ میرے دوست ہیں مگر بہت شرمیلے۔ ان سے قسم لے لیجیے جو انہوں نے آج تک کسی عورت کو چھوا بھی ہو۔ ان کا نام رؤف ہے مگر آپ انہیں مروّوں کا پٹھیں سمجھ لیجیے۔”

(10)

سوال نمبر 4: درج ذیل نثر پاروں میں سے کسی ایک کی تلخیص کیجیے۔

اچھے برے ہر قوم میں ہوتے ہیں۔ شریف الرعایا خان صاحب کی سچائی اور دیانت داری اور جفاکشی کی بڑی قدر کرتے تھے اور ان کو اپنی اردلی میں رکھتے تھے۔ مگر بعض ایسے بھی تھے کہ جن کے سر میں خناس سمایا ہوا تھا۔ انہیں خان صاحب کے یہ ڈھنگ پسند نہ تھے اور وہ ہمیشہ ان کے نقصان کے درپے رہتے تھے۔ ایسے لوگ اپنی اور اپنی قوم والوں کی خودداری کو جوہرِ شرافت سمجھتے تھے۔ لیکن انگریزی جو بو بھی دیسی میں ہو عمار ت، غرور اور گستاخی پر محمول کرتے ہیں۔ تاہم ان کے اکثر انگریز افسران ان پر بہت مہربان تھے۔ خاص کر کرنل فراب جمن ان پر بڑی عنایت کرتے تھے اور خان صاحب پر اس قدر اعتبار تھا کہ شاید کسی اور پر ہو۔ جب کرنل صاحب نے اپنی خدمت سے استعفیٰ دیا تو اپنا تمام مال و اسباب اور سامان جو بازار بارہ پے کا تھا خان صاحب کے سپرد کر گئے۔ یہ امر انگریز افسروں کو بہت ناگوار ہوا۔ اس وقت کے کمانڈنگ افسر نے نہ رہا گیا اور اس نے کرنل موصوف کو لکھا کہ آپ نے ہم پر اتکا د کیا اور ایک دیسی دفعہ دار کو اپنا تمام قیمتی سامان حوالے کر گئے۔ اگر آپ یہ سامان ہمارے سپرد کر جاتے تو اسے اچھے داموں میں فروخت کر کے قیمت آپ کے پاس بھیج دیتے۔ اگر اب بھی لکھیں تو اس کا انتظام ہو سکتا ہے۔ کرنل نے جواب دیا کہ مجھے نُور خاں پر تمام انگریز افسروں سے زیادہ اعتماد ہے۔ آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر یہ لوگ اور برہم ہوئے۔ ایک بار کالا جگمگ افسر یا سلطان دیکھنے آیا اور کہنے لگا کہ فلاں فلاں چیز میم صاحب نے ہمارے ہاں سے منگائی تھی۔ پہلے نقدی واپس کرنی ہوگی۔ اب تم یہ سب چیزیں ہمارے بنگلے پر بھیج دو۔

یا

اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے کے ساتھ جب مجھے مطلع کیا گیا کہ میرے نظریاتی فرائض خاکسار کی اور حاشیائیاں ہوں تو مجھے ایک گونہ اطمینان ہوا۔ ایک گونہ میں رواروی میں لکھ گیا ورنہ سچ پوچھے تو دو گونہ اطمینان ہوا۔ اس لیے کہ مجھے اطمینان دلایا گیا کہ رسمِ اجزا نہایت منظم وسادہ ہو گی۔ اس میں کوئی ہو گا جو اس طرح کے شاموں میں شایانِ شان ہوتا ہے یعنی کچھ نہیں ہو گا۔ بس صاحبِ شام (میں نے جان بوجھ کر صاحبہِ شام نہیں کہا) شاہدِ حسن کی تاجپوشی کیوں ہو گی۔ میرے ترَدّدِ تاجل اور اس وضاحت کا سبب یہ تھا کہ ایک ہفتے قبل میں شاہدہ کا ایک خیال انگیز تحلیلی مضمون خطہءِ دکن کی عربی جناب جابر فرزندی کی کتابچہ ملی کی تقریبِ سعید میں سن چکا تھا۔ جالب صاحب کی شاعری اور تنقیدی کارہائے سلسلہءِ نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ ایک عمر کے ریاض،

مہارتِ تامہ، ژرف نگاہی، وضع داری اور ادبی سیر چشمی کی جتنی تعریف کی جائے، کم ہے۔ تعجب اس پر ہوا کہ جیسا تاج پیر و مرشد کو عقیدت مندوں نے پہنایا، ویسا تاج امریکہ میں حسنِ عالم کو اور پنجاب میں صرف دلہن کو پہنایا جاتا ہے۔ دولہا کے سر پر توسہ غزل کی لمبائی کے برابر اونچی طرے دار کلاہ ہوتی ہے۔ پنجاب میں اگر دولہا ایسا زنانہ تاج پہن کر آ جائے تو قاضی نکاح پڑھانے سے انکار کر دے گا۔ اور اگر نکاح ایک دن قبل ہو چکا ہے تو دلہن والے نکاح ٹوٹنے کا اعلان کر دیں گے۔ دلہن اپنے بائیں دستِ حنائی سے دائیں ہاتھ کی ہری ہری چوڑیاں توڑ دے گی اور دائیں ہاتھ سے بائیں کی۔ پھر ان ہی سونڈھے ہاتھوں سے دھکے دے کر ہریالے بنڑے کو عقد گاہ سے یہ کہہ کر باہر نکال دے گی کہ عقد عقد سمجھ مشغلہ دل نہ بنا

(20)

سوال نمبر 5- کسی ایک موضوع پر سیر حاصل مضمون لکھیے۔

(الف) پاکستانی دور کے فکشن کے فکری رجحانات

(ب) پاکستانی ادب کی تشکیل میں اردو اور دیگر مقامی زبانوں کا کردار

(ج) فیض احمد فیض کی شاعری جدیدیت اور سماجی حقیقت پسندی کا امتزاج

Answer Key Q1

1 (A) ایک مزاحیہ رسالہ

2 (C) استعارہ

3 (C) تضاد

4 (C) اسلوب

5 (C) دل ہی تو ہے

6 (B) کمالِ اعتدال

7 (B) پیچھے پیچھے آنے والا

8 (B) سماجی و اخلاقی زوال

9 (D) ان میں سے کوئی نہیں

10 (D) ان میں سے کوئی نہیں

11 (B) افسانہ

12 (B) معاشرتی مسائل

13 (A) ان کی شاعری کا مرکزی موضوع

14 (C) جوش ملیح آبادی

15 (A) فکشن

16 (A) شوکت تھانوی

17 (A) ڈاکٹر جمیل جالبی

18 (C) غزلیں

19 (A) تین

20 (D) ان میں سے کوئی نہیں

**************

4 Views