Urdu Literature CSS Paper 2023

FEDERAL PUBLIC SERVICE COMMISSION

COMPETITIVE EXAMINATION-2023 FOR RECRUITMENT TO POSTS IN BS-17 UNDER THE FEDERAL GOVERNMENT

URDU LITERATURE

TIME ALLOWED: THREE HOURS

PART-I(MCQS): MAXIMUM 30 MINUTES

PART-I (MCQS) MAXIMUM MARKS = 20

PART-II MAXIMUM MARKS = 80

NOTE: (i) Part-II is to be attempted on the separate Answer Book.

(ii) Attempt ALL questions.

(iii) All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.

(iv) Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q. Paper.

(v) No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.

(vi) Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.

PART-II

سوال نمبر 2۔ (الف) درج ذیل میں سے کسی ایک جزو کی تشریح کیجئے اور شاعر کا نام بھی لکھئے۔(15)

جزو اول

(1) کیوں جل گیا نہ تابِ رُخِ یار دیکھ کر

جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

(2) وا حسرتا کہ یار کھینچا ستم سے ہاتھ

ہم کو حریصِ لذتِ آزار دیکھ کر

(3) ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں

جی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر

(4) گرتی تھی ہم پہ برقِ تجلی، نہ طور پر

دیتے ہیں بادہ ظرفِ قدح خوار دیکھ کر

جزو دوم

اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار و حیلہ گر

شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

دستِ دولت آفریں کو مزدِ یوں ملتی رہی

اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات

ساحرِ الموطا نے تجھ کو دیا برگِ حشیش

اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات

نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب و رنگ

خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات

 

(ب) مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک کا جواب لکھئے۔(10)

فیض کی شاعری ‘وعدے اور اُمید’ کی شاعری ہے۔ اس خیال کی روشنی میں دستِ صبا کا تجزیہ کیجئے۔

یا

ن م راشد کی نظم میں ان کے عہد کی سیاسی و سماجی صورتِ حال کا عکس بے حد نمایاں ہے ”ایران میں اجنبی“ کے حوالے سے وضاحت کیجئے۔

سوال نمبر 3۔ (الف) ”احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں میں زندگی کے مسائل کے ساتھ انسانی نفسیات کی گرہیں بھی کھولی ہیں۔“ اس رائے کی روشنی میں ”کپاس کا پھول“ کا جائزہ لیجئے۔(15)

یا

یوسفی کے ہاں مزاح واقعاتی یا سانحاتی سے زیادہ گُفتگو اور تبصرے کا ہے۔ ”آبِ گم“ کے حوالے سے وضاحت کیجئے۔

(ب) مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کیجئے اور مصنف و مضمون کا نام بھی لکھئے۔(10)

شجرہ اور حویلی بھی ایک ایسی جائے اماں تھی۔ ممکن ہے بے ادب نگاہوں کو یہ تصویر میں ڈھنڈار دکھائی دے لیکن جب قبلہ اس کی تعمیراتی نزاکتوں کی تشریح فرماتے تو اس کے اگے تاج محل سیدھا، سپاٹ گنوار گھروندا معلوم ہوتا۔ مثلا دوسری منزل پر ایک دروازہ نظر آتا تھا جس کی چوکھٹ اور کواڑ جھڑ چلے تھے۔ قبلہ اسے فرانسی دریچہ بتاتے تھے اگر یہاں  واقعی کوئی ولایتی دریچہ تھا تو یقینا یہ وہی دریچہ ہوگا جس میں جڑے ہوئے آئینہ جہاں نما کو توڑ کر ساری کی ساری ایسٹ انڈیا کمپنی آنکھوں میں اپنے جوتوں کی دھول جھونکتے گزر گئی۔

یا

مرحوم ہماری قدیم تہذیب کا بے مثل نمونہ تھے۔ شرافت اور نیک نفسی ان پر ختم تھی۔ چہرے سے شرافت، ہمدردی اور شفقت ٹپکتی تھی اور دل کو ان کی طرف کشش ہوتی تھی۔ ان کے پاس بیٹھنے سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی چیز ہم پر اثر کر رہی ہے۔ درگزر کا یہ عالم تھا کہ کوئی ان سے کیسی ہی بد معاملگی اور بد سلوکی کیوں نہ کرے ان کے تعلقات میں کبھی فرق نہ آتا۔ جب ملتے تو اسی شفقت اور عنایت سے پیش آتے۔ اور کیا مجال اس بد سلوکی اور بد معاملگی کا ذکر زبان پر آنے پائے۔ ایسے لوگ جن سے ہر کوئی حذر کرتا جب ان سے ملتے آتے تو ان کے حُسنِ سلوک اور محبت کا کلمہ پڑھتے ہوئے جاتے تھے۔

 

سوال نمبر 4۔ کسی ایک نثر پارے کی تلخیص کیجئے۔(10)

مسلمانوں کے مصائب اگر تمام تر اقتصادی ہوتے تب بھی ان کا حل آسان نہ تھا۔ لیکن اس زمانے میں انہیں جو نئے نئے مسائل پیش آرہے تھے وہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تھے۔ اقتصادی اور ذہنی پستی کی اصلاح کے لئے ضروری تھا کہ مسلمان انگریزی تعلیم حاصل کریں اور وہ اس سے بدکتے تھے۔ اب تک ان کی ادبی زبان فارسی رہی تھی لیکن اس زبان کا مستقبل تاریک تھا اور اُردو میں غزل گو شعراء کے دواوین کے سوا کوئی قابلِ ذکر لٹریچر نہ تھا۔ نثر میں بھی گنتی کی چند کتابیں تھیں جن میں علمی مسائل پیش کرنے کی صلاحیت نہ آئی تھی۔ اُردو شاعری بھی نقائص سے پر تھی اور قوم کی نشو و نما میں کسی طرح کارآمد نہ ہو سکتی تھی۔

یا

اردو ادب کی تین اصناف یعنی افسانہ، شاعری اور تنقید کو نہ صرف اس تحریک نے متاثر کیا بلکہ ادب کی ہیت اجتماعیہ کو انسانی شعور سے رہنمائی حاصل کرنے، سائنسی انداز میں تجزیہ کرنے اور ان دونوں کے امتزاج سے زندگی کی بصیرتوں کو نئے مفاہیم نکھارنے کی قوت عطا کی۔ اس تحریک نے منطقی استدلال اور حقیقت پسندانہ تجزیے کو فروغ دیا اور معاشی حقائق کو تسلیم کر کے استحصالی قوتوں کی نشاندہی کی۔ اس تحریک کے مقاصد میں عوام کی بہبودی اور ایک خوشحال معاشرے کی تعمیر کو فوقیت حاصل تھی۔ چنانچہ بلند انسانیت میں اعتقاد اور کُچلے ہوئے عوام کو ایک باعظمت مقام دلانے کی خواہش نے نئے ادباء کو اس تحریک کی طرف متوجہ کیا۔ (20)

سوال نمبر 5۔ کسی ایک موضوع پر جامع مضمون لکھئے۔

(الف) ماحولیات اور ادب

(ب) اردو افسانے پر ترقی پسند تحریک کے اثرات

(ج) اردو شاعری میں سائنسی شعور

***************

3 Views