KHYBER PAKHTUNKHWA PUBLIC SERVICE COMMISSION
COMPETITIVE EXAMINATION FOR THE POST OF
PROVINCIAL MANAGEMENT SERVICES OFFICERS, 2022
URDU (PAPER-II)
Time Allowed: 03 Hours
Max Marks: 100
——————————
حصہ اوّل
سوال نمبر 1: حوالے کے ساتھ درج ذیل میں سے کسی ایک شعری اقتباس کی تشریح کیجئے۔ (20)(الف)
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ رازِ زندگی کہہ دے
مسلماں سے حدیثِ سوز و سازِ زندگی کہہ دے(ب)
غم ہے یا خوشی ہے تو — میری زندگی ہے تو
میں خزاں کی شام ہوں — رت بہار کی ہے تو
میری ساری عمر میں — ایک ہی کمی ہے تو
سوال نمبر 2: حوالہ متن اور سیاق و سباق کے ساتھ درج ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کیجئے۔ (20)(الف) اُس کے کوئی اولاد نہ تھی۔ وہ اپنے پودوں اور پیڑوں ہی کو اپنی اولاد سمجھتا تھا اور اولاد کی طرح اُن کی پرورش اور نگہداشت کرتا تھا۔ ان کو سرسبز اور شاداب دیکھ کر ایسا ہی خوش ہوتا جیسے ماں اپنے بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔ وہ ایک ایک پودے کے پاس بیٹھتا، ان کو پیار کرتا،
جھک جھک کر دیکھتا اور ایسا معلوم ہوتا گویا ان سے چپکے چپکے باتیں کر رہا ہے۔
(ب) اس گھوڑے پر انسان کے زانو سختی سے جمے ہوں تو وہ عرفان تک پہنچتا ہے؛ ڈھیلا بیٹھا ہو تو دیوانہ وار گرتا ہے اور پاگل کہلاتا ہے۔ دنیا کا عرفان ہو تو شاعری، مصوری، موسیقی، آرٹ جنم لیتا ہے۔ دنیا درکنار نہ ہو اور قوت تیز ہو تو عرفان کی حدیں چھو لیتا ہے۔
حصہ دوم
نوٹ: مندرجہ ذیل میں سے صرف تین سوالوں کے جوابات تحریر کیجئے۔
سوال نمبر 3: میر کی شاعرانہ عظمت کا راز کیا ہے؟ (20)
سوال نمبر 4: اقبال کے افکار کا سرچشمہ قرآن حکیم ہے، اپنا نقطہ نظر پیش کیجئے۔ (20)
سوال نمبر 5: اردو سیرت نگاری کی روایت میں علامہ شبلی نعمانی کی “سیرت النبی ﷺ” کو کیا مقام حاصل ہے؟ (20)
سوال نمبر 6: “سرِ وادیِ سینا” فیض کی فنی پختگی اور عصری شعور کا اعلیٰ نمونہ ہے، بحث کیجئے۔ (20)
سوال نمبر 7: عبداللہ حسین کے فن کا ناقدانہ جائزہ لیجئے۔ (20)
سوال نمبر 8: مشتاق یوسفی کی مزاح نگاری کی نمایاں خصوصیات کیا ہیں؟ (20)
****************