Table of Contents
KPK, PUBLIC SERVICE COMMISSION
Competitive Examination for the Posts of PMS, 2016
URDU PAPER-II
Time Allowed: 03 Hours Max: Marks: 100
حّصہ اول
سوال نمبر 1: درج ذیل اجزاء میں سے کسی ایک جزو کے اشعار کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے: (20) = 18 + 2
(أ)
| بنی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی | مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ بے نوازی |
| میں کہاں ہوں تو کہاں ہے، یہ مکان کہ لا مکان ہے؟ | یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ ترے تماشہ سازی |
| وہ فریبِ خوردہ شاہیں کہ پَلا ہو کرگسوں میں | اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی |
(ب)
| یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ | یوں فضا مہکی کہ بدلا ترے ہمراز کا رنگ |
| سایۂ چشم میں حیراں رخِ روشن کا جمال | سرخیِ لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ |
| اک نظر اور کہ بھر پائے رنگِ قلم میرا | حرفِ سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ |
سوال نمبر 2: حوالۂ متن اور سیاق و سباق کے ساتھ درج ذیل میں سے کسی ایک اقتباس کی تشریح کیجیے: (20) = 15 + 3 + 1 + 1
(أ) “اپنے ادبی قیاس و قیافہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک دن بیدل نے ایک بنگ رنگ کے بارے میں آدمی کی مجال سے ناسزا گویوں کو جو کسی قسم کی گستاخی میں باک نہ رکھتا تھا، اِتفاق سے اس وقت ایک بھرے بھرے پٹھان والی دُکانِ دکاندار کے سامنے سے گزری۔ نیلی قمیض اس کے بدن پر چست نقرء کی طرح کسی ہوئی تھی، سر پر پگ، اسی سلیقے سے بندھے ہوئے، ماتھے میں ہی کی کوئی بھی شریف آدمی روپیہ نہیں کھدوا سکتا ہے، اس کے روپے بھی کتنا معصوم نہیں تھا۔ ننگ موری اور سنگ گھیرے کی شلوار، جہاں اتر چہ کڑی کمان کا تیر تھی لیکن گھٹ اور الٹا دھمک۔ کمر کی تہذیب اتنی آئی ہوئی کیوں نہ ہو ہمیں اس سے کیا حق ہے؟۔ چمکدار فلک تڑپیں تڑپیں وہ ہاں۔ عالم قد۲۰۰ کے بڑھانے سے پہلے ایک دفعہ نسم کے درمیان مٹی کے گلدان کے پیالوں کی طرح رائیں باتیں باداتی ہیں اس کی گوری یہ چل جاتی۔ تشبیہہ کو سمیٹ کر وہ حصہ نسم نے ابھی سرافت الحوب سے نکال سنک کی اتنی ہی مشرق سے مغرب تک۔ عطر پون سمجھے کہ یہ باہم ایک دفعہ آسام طلب عالی ارالی ہے” یہ دوسری تھی”۔
(ب) “تم چو ہدری کے پودے کے ہو، میں جانتا ہوں،” سنگو سامنے دیکھتے ہوئے مستری سے بولا، “جیسے ہی انہوں نے رالی یار کو وہ گندم کے کھیت کے کنارے کھڑے دیکھا تھا، سونے کے رنگ کی فصل میں دھوپ میں چمک رہی تھی، ہوا رائیوں میں سرسرا رہی تھی۔ فصل کی اوٹ میں چند کسانوں کے باتیں کرنے کی کرخت آوازیں آرہی تھیں، ایک بار اس لکڑی کا کاٹھوڑے تھوڑے ولے پر فصل کے اوپر لہراتا ہوا کچھ اور ہی آگ لگائے تھا۔ میم نے نان کر ایک خوبصورت بالی جوڑ، انٹیمیلی میں مسل کر دانے نکالے تو وہ ایک ہی دانے میں اس کا باقی کو پھینک دیا۔ یہ فصل کل کی قدر نہیں کرے گی، ایک سراب تم کو اندھیرے میں مسل کر دانے نکالے تو وہ ایک ہی دانے میں سامنے سے ایک لڑکی آرہی تھی۔ وہ لٹے قد کی صحت مند لڑکی تھی جود سر پر میگھیر پر چھاجولہ بدلاہ اٹھائے وہ لالی سے چل رہی تھی۔”
حّصہ دوم
نوٹ: درج ذیل میں سے کوئی سے تین سوالات کے جوابات تحریر کریں۔
سوال نمبر 3: میر تقی میر کے ہاں داخلیت پسندی کا غالب رجحان پایا جاتا ہے۔ تنقیدی جائزہ لیں۔ (20)
سوال نمبر 4: “شبِ رفتہ” میں شامل نظموں کی روشنی میں مجید امجد کی نظم گوئی کا فنی و فکری جائزہ پیش کریں۔ (20)
سوال نمبر 5: ناصر کاظمی کی شاعری کی روح کیا ہے اس کا استدلالی اقامہ۔ مثالوں کے ساتھ وضاحت کریں۔ (20)
سوال نمبر 6: علامہ شبلی نعمانی نے “سیرت النبیؐ” میں سرورِ کائنات کی حیاتِ مبارکہ کے تمام گوشوں پر روشنی ڈالنے کے علاوہ اُردو میں علمی اور مذہبی نثر نگاری کی روایت کو بھی سہارا دیا۔ تفصیلی نوٹ لکھیں۔ (20)
سوال نمبر 7: “کپاس کے پھول” کی روشنی میں احمد ندیم قاسمی کی افسانہ نگاری پر مثالوں کے ساتھ روشنی ڈالیں۔ (20)