PUNJAB PUBLIC SERVICE COMMISSION
COMBINED COMPETITIVE EXAMINATION
FOR RECRUITMENT TO THE POSTS OF
PROVINCIAL MANAGEMENT SERVICE -2020
SUBJECT: URDU (PAPER-II)
TIME ALLOWED: THREE HOURS
MAXIMUM MARKS: 100
NOTE:
i. All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
ii. Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q. Paper.
iii. No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
iv. Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.
سوال نمبر 1: درج ذیل میں سے کسی ایک موضوع پر جامع مضمون لکھیے: 20 نمبر
(الف) پاکستان کی ترقی میں تارکینِ وطن کا کردار
(ب) فنی تعلیم کا فقدان، بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا سبب ہے۔
(ج) بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی: اسباب اور سدِباب
(د) فنونِ لطیفہ کا فروغ اور معاشرتی ہم آہنگی
سوال نمبر 2: قومی اخبار کے ایڈیٹر کے نام خط لکھ کر اسے ٹریفک حادثات کی زیارتی پر تشویش اور تدارک کے لیے تجاویز دیجیے۔ 10 نمبر
سوال نمبر 3: ”چند ہم عصر“ اردو خاکہ نگاری کے ابتدائی دور کی تصنیف ہونے کے سبب خاکہ نگاری میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، دلائل کے ساتھ اتفاق یا اختلاف کیجیے۔ 15 نمبر
یا
پطرس بخاری کے اکثر مضامین کردار، فضا، تقسیم، ابتدا اور انتہا کے اعتبار سے افسانے کے فن سے خاصے قریب ہیں ”مضامینِ پطرس“ کے حوالے سے مدلل بحث کریں۔
سوال نمبر 4: ”ایران میں اجنبی“ صرف راشد کی شاعری ہی میں سنگِ میل کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ ہیئتی و تکنیکی معیار کے اعتبار سے بھی آزاد نظم کی تاریخ میں اس کی حیثیت سنگِ میل کی ہے، بحث کریں۔ 15 نمبر
یا
نظیر اکبر آبادی نے ”غزل“ کے دور میں ”نظم“ کی اہمیت اور افادیت ثابت کردی، تائید یا تردید دلائل سے کیجیے۔
سوال نمبر 5: درج ذیل اشعار کی تشریح کریں اور شاعر کا نام بھی لکھیں۔ 15 نمبر
قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم
منزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم
محفلِ نظمِ حکومت، چہرۂ زیبائے قوم
شاعرِ رنگیں نوا ہے دیدۂ بینائے قوم
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
یا
عشرتِ قتل گہِ اہلِ تمنا، مت پوچھ
عیدِ نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا
عشرتِ پارۂ دل، زخمِ تمنا کھانا
لذتِ ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا
سوال نمبر 6: مندرجہ ذیل اشعار کی تشریح نظم کے حوالے سے کریں، نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجیے۔ 10 نمبر
بنی سنگِ مر مر سے چو پر کی نہر
گئی چار سو اس کے پانی کی لہر
قرینے سے گرد اس کے سردِ سہی
کچھ اک دور دور اس سے سیب و بہی
کہوں کا کیا میں کیفیتِ دار بست
لگائے رہیں تاک واں مے پرست
ہوائے بہاری سے گل لیلیے
چمن سارے شاداب اور ڈہڈہے
سوال نمبر 7: درج ذیل اقتباس کی تلخیص کیجیے جو اصل عبارت کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔ اس کا عنوان بھی تجویز کیجیے۔ 5+10=15 نمبر
کائنات نہ تو اتفاقاً یا کسی حادثے کے نتیجے میں وجود آئی ہے اور نہ خود بخود پیدا ہوئی۔ بلکہ اس کی تکوین و تخلیق میں غصب کا نظم و ضبط کارفرما ہے، اور یہ کائنات چل رہی ہے۔ آسمان ہو یا زمین، ستارے ہوں یا سیارے، سورج ہو یا چاند، انسان ہو یا حیوان، نباتات ہو یا جمادات، پانی ہو یا ہوا، دن ہو یا رات، غرض کہ کائنات کے تمام مظاہر قدرت کے لگے بندھے نظام کے اسیرِ نظر آتے ہیں۔ نظامِ قدرت کے تحت جس گوشے کو جو ذمہ داری تفویض کی گئی ہے وہ اسے باقاعدگی سے ٹھیک ٹھیک انجام دے رہی ہے۔ سورج کا طلوع و غروب نظم و ضبط کا پابند ہے۔ نظامِ شمسی میں سیاروں کی گردش نظم و ضبط کی پابند ہے۔ چاند کا گھٹنا بڑھنا نظم و ضبط کا پابند ہے۔ زمین کی روزانہ اور سالانہ گردش نظم و ضبط کی پابند ہے۔ اس نظم و ضبط کے حوالے سے ہر چیز کے لیے جو رفتار جو وقت اور جو راستہ مقرر ہو چکا ہے اس میں ذرا ذرا فرق نہیں آتا۔ روئے زمین پر نباتات، جمادات اور حیوانات قدرت کے مخصوص نظم و ضبط کے تابع ہیں۔ کہ وہ اسی نظم و ضبط کے مطابق آفرینش، ارتقاء اور فنا کے مرحلوں سے گزرتے ہیں۔ ہواؤں کی جولانی ہو یا ندی نالوں کی روانی، دریاؤں کی طغیانی ہو یا پہاڑوں کی آتش فشانی، صحراؤں کی ریگِ وانی ہو یا برف زاروں کی خشک سامانی، سب کے اندر قدرت کا مقرر کردہ نظم و ضبط کا فرما نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات نے اس کائنات کی ایک ایک شے کے لیے ایک خاص ضابطہ، ایک خاص اصول نظم و ضبط مقرر کر دیا ہے۔ جس سے وہ ذرا بھی اِدھر اُدھر نہیں ہو سکتی۔
**************
Urdu Punjab PMS Paper II 2020
8 Views