PUNJAB PUBLIC SERVICE COMMISSION
COMBINED COMPETITIVE EXAMINATION
FOR RECRUITMENT TO THE POSTS OF
PROVINCIAL MANAGEMENT SERVICE, ETC -2022
CASE NO. 2C2023
SUBJECT: URDU (PAPER-II)
TIME ALLOWED: THREE HOURS
MAXIMUM MARKS: 100
NOTE:
i. All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
ii. Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q. Paper.
iii. No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
iv. Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.
سوال نمبر 1۔ درج ذیل میں سے کسی ایک موضوع پر جامع مضمون لکھیے: 20 نمبر
(الف) عبث ہے شکوہِ تقدیرِ یزداں
(ب) دہشت گردی ملکی اور غیر ملکی تناظر میں
(ج) نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
(د) اخلاقی بگاڑ میں موبائل کا کردار
سوال نمبر 2۔ مؤثر اخبار کے ایڈیٹر کے نام خط لکھ کر اسے ملک میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات پر تشویش اور اس کے تدارک کے لیے تجاویز دیجیے۔ 10 نمبر
یا
بیرون ملک مقیم دوست کو ملک کے سیاسی و معاشی حالات سے آگہی کے لیے خط تحریر کیجیے۔
سوال نمبر 3۔ اردو تنقید کی روایت میں ”مقدمہ شعر و شاعری“ کا مقام و مرتبہ متعین کیجیے۔ 15 نمبر
یا
سفر نامہ نگاروں کا جائزہ لیتے ہوئے ابنِ انشا کے سفر ناموں کا جائزہ لیجیے۔
سوال نمبر 4۔ مجید امجد کی شاعری کے حوالے سے ان کے تصورِ وقت کی وضاحت کیجیے۔ 15 نمبر
یا
غزل کی تعریف بیان کیجیے اور فیض احمد فیض کی ”نقشِ فریادی“ کی غزلیات پر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔
سوال نمبر ۵۔ درج ذیل اشعار کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔ 15 نمبر
رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہیں
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں
-2-
سوال نمبر ۶۔ مندرجہ ذیل اشعار کی تشریح نظم کے حوالے سے کیجیے، نیز نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجیے۔ 15 نمبر
گر اس نے دیا غم تو اسی غم میں رہے خوش
اور اس نے جو ماتم دیا، ماتم میں رہے خوش
کھانے کو ملا کم تو اسی کم میں رہے خوش
جس طور کہا اس نے اس عالم میں رہے خوش
دکھ درد میں، آفات میں جنجال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں
سوال نمبر ۷۔ درج ذیل اقتباس کی تلخیص کیجیے، جو اصل عبارت کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔ نیز اس عبارت کا کوئی موزوں عنوان بھی تجویز کیجیے۔ 10 نمبر
یہ کیسا عجیب چشمہ ہے کہ اس میں زندگی کھو بھی جاتی ہے مگر اس سے سیراب بھی ہوتی ہے، کبھی یہ سراب معلوم ہوتا ہے کبھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ کبھی اس کنارے سدا بہار جوانی کا پودا کھو جاتا ہے۔ اسی کنویں میں یوسف کو قید کی سزا ملتی ہے اسی آئینے میں نارسس اپنا عکس دیکھ دیکھ کر ہلاک ہو جاتا ہے لیکن اسی سے زندگی ابلتی ہے اور زندگی کے دریا چاروں طرف جاتے ہیں، چاروں طرف اُمڈتے ہیں۔ اس سے ابر اٹھتے ہیں اور چاروں کھونٹ زندگی کا مینہ برساتے ہیں، گلِ گامش فنا ہو جاتا ہے۔ یوسف کا حسن ایک دن باقی نہیں رہتا۔ نارسس کا عکس مٹ جاتا ہے اور صرف چمکدار سنگریزے باقی رہ جاتے ہیں لیکن انسان فنا نہیں ہوتا۔ ایک نسل کے بعد دوسری نسل، اسی چشمے کی فیضان سے انسان زندہ ہوتا ہے۔ سب سے مقابلہ کرنے کے لیے۔۔۔۔ سانپ سے۔۔۔۔ ابلیس سے۔۔۔۔ دیوتاؤں سے اور۔۔۔۔ اس موذی سے جو اس کے اندر چھپا ہوا ہے۔
——————————
Urdu Punjab PMS Paper II 2022
9 Views