Urdu Punjab PMS Paper II 2021

PUNJAB PUBLIC SERVICE COMMISSION
COMBINED COMPETITIVE EXAMINATION
FOR RECRUITMENT TO THE POSTS OF
PROVINCIAL MANAGEMENT SERVICE, ETC -2021
CASE NO. 3C2022
SUBJECT: URDU (PAPER-II)
TIME ALLOWED: THREE HOURS
MAXIMUM MARKS: 100
NOTE:
i. All the parts (if any) of each Question must be attempted at one place instead of at different places.
ii. Write Q. No. in the Answer Book in accordance with Q. No. in the Q. Paper.
iii. No Page/Space be left blank between the answers. All the blank pages of Answer Book must be crossed.
iv. Extra attempt of any question or any part of the question will not be considered.
سوال نمبر ۱۔ درج ذیل میں سے کسی ایک موضوع پر جامع مضمون لکھیے: 20 نمبر
(الف) کرونا وبا کے ملکی معیشت پر اثرات
(ب) وطنِ عزیز میں توانائی کے بحران کی بنیادی وجوہات
(ج) سماجی برائیاں اور ان کا سدِباب
(د) الیکٹرونک ذرائع ابلاغ کے معاشرے پر منفی اثرات
سوال نمبر ۲۔ آپ کے علاقے میں فروخت ہونے والے ناقص گوشت پر کارروائی کے لیے میونسپل کارپوریشن آفیسر کے نام ایک درخواست لکھیے۔ 10 نمبر
سوال نمبر ۳۔ میر امن کی داستان ”باغ و بہار“ کی مقبولیت کے اسباب و محرکات کو تفصیلاً بیان کیجیے۔ 15 نمبر
یا
غلام عباس کے افسانے سماجی حقائق کی بہترین مثال ہیں، اُن کے افسانوی مجموعے ”جاڑے کی چاندنی“ کی روشنی میں واضح کیجیے۔
سوال نمبر ۴۔ یورپ سے واپسی پر اقبال ذہنی طور پر بے کلی، اضطراب اور انتشار کا شکار ہو گئے۔ کیوں؟ 15 نمبر
یا
فیض کی ابتدائی دور کی نظمیں نوجوان شاعر کے عشقیہ تجربات اور واردات پر مشتمل ہیں۔ تائید یا تردید کیجیے۔
سوال نمبر ۵۔ مندرجہ ذیل اشعار کی تشریح کیجیے اور شاعر کا نام بھی لکھیے۔ 15 نمبر
یہ موجِ پریشاں خاطر کو پیغام لبِ ساحل نے دیا
ہے دورِ وصالِ بحر ابھی ، تو دریا میں گھبرا بھی گئی
عزت ہے محبت کی قائم ، اے قیس! حجابِ محمل سے
محمل جو گیا ، عزت بھی گئی ، غیرت بھی گئی ، لیلیٰ بھی گئی
کی ترکِ تگ و دو قطرے نے ، تو آبروئے گوہر بھی ملی
آوارگیِ فطرت بھی گئی ، اور کشمکشِ دریا بھی گئی

یا
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتہ بتلا دوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
ہاں کچھ اک رنجِ گراں باریِ زنجیر بھی تھا

سوال نمبر ۶۔ مندرجہ ذیل اشعار کی تشریح نظم کے حوالے سے کیجیے، نیز نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجیے۔ 15 نمبر
کسی کو کوئی دھول مارے کہیں
کوئی جان کو اپنی وارے کہیں
کوئی آرسی اپنے آگے دھرے
ادا سے کہیں بیٹھ کنگھی کرے
مقابہ کوئی کھول مسی لگائے
لبوں پر دھڑی کوئی اپنے جمائے
ہوا ان گلوں سے دوبالا سماں
اسی باغ میں تھا وہ سروِ رواں
سوال نمبر ۷۔ درج ذیل اقتباس کی تلخیص کیجیے، جو اصل عبارت کے ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔ نیز اس عبارت کا کوئی موزوں عنوان بھی تجویز کیجیے۔ 10 نمبر
اسلام نے شادی کی اہمیت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے۔ ”نکاح کرنا میری سنت ہے، پس جو شخص اس سے پھرا، وہ ہم میں سے نہیں۔“ اور یہ کہ ”اسلام میں سنیاس نہیں ہے۔“ شادی کرنا انسانی فطرت کا بھی ایک اہم تقاضا ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق مناکحت میں طرفین کی طرف سے بذاتِ خود ایجاب و قبول اور باہمی رضا و رغبت ضروری ہے اور یہ بات سنِ تمیز اور بلوغت کو پہنچ کر ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب میں عام طور پر جب تک لڑکا اور لڑکی سنِ تمیز یا بلوغت کو نہیں پہنچ جاتے، اُن کا نکاح نہیں کیا جاتا۔ منگیتر کو دیکھ لینے اور دکھا دینے کی بھی اجازت ہے۔ یہ بھی اجازت ہے کہ ولیِ جائز بھی نکاح کا ذمہ لے سکتا ہے، مگر برصغیر کے مسلمانوں میں عام طور پر یہی رواج ہے کہ ماں باپ، بڑا بھائی یا چچا وغیرہ لڑکی اور لڑکے کی شادی کے ذمہ دار رہتے ہیں۔ منگیتر کو دکھانا تو دُور کی بات، اس ضمن میں اس کے برعکس یہاں تک احتیاط کی جاتی ہے کہ کنواری لڑکی مشاطہ کے سامنے تک نہیں آتی۔

 

8 Views